بِسْــــــــــــــــــــــ ـمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
┄┅════════════⚜⚜⚜════════════┅┄
●═┅┄ قبروں پر مساجد بنانا┄┅·•═●
┄┅════════════════════════ ┅┄
قبروں پر مسجدیں بنانا جائز نہیں اور نہ کسی ایسی مسجد میں نماز جائز ہے جو کسی قبریا قبروں پر بنائی گئی ہو کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا سے روایت ہے۔کہ مرض الموت میں رسول اللہﷺ نے اپنے چہرے مبارک سے چادر ہٹا کر فرمایا:
لعنة الله علي اليهود والنصاريٰ اتخذوا قبور انبيائهم مساجد يحذر ما صنعوا ولو لا ذلك لا برز قبره غير انه خشي ان يتخذ مسجدا
(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور ح: 1330 صحیح مسلم کتاب المساجد باب النھی عن بناء المسجد ۔۔۔ح :529 وسنن نسائی رقم:704 واحمد فی المسند 5/604 وموطا امام مالک کتاب نصر الصلاۃ فی السفر رقم :85)
''یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔کہ انہوں نے اپنے نبیوں ؑ کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔آپﷺ ان کے فعل سے اپنی اُمت کو ڈرا رہے تھے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ ﷺ کی قبر کو بھی نمایاں کردیا جاتا۔نمایاں اس لئے نہیں کیا گیا کہ اسے مسجد نہ بنا لیا جائے۔''
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو وفات سے پانچ دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ
اني ابرا الي الله ان يكون لي منكم خليل فان الله قد اتخذني خليلا كما اتخذ ابراهيم خليلا ولو كنت متخذا من امتي خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا ال وان من كان قبلكم كانوا يتخزون قبور انبيائهم وصالحيهم مساجد الا فلا تتخذوا القبور مساجد فاني انهاكم عن ذلك
(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب النھی عن بناء المسجد علی القبور ۔۔ح :532)
‘‘میں اللہ تعالیٰ کی جناب (بارگاہ)میں اس بات سے اظہار برات کرتا ہوں کہ تم میں سے میرا کوئی خلیل ہوکیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنالیا ہےجس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس نے اپنا خلیل بنا لیا تھا ۔اگرمیں نے امت میں سے کسی کو اپنا خلیل (بےحد گہرا دوست)بنانا ہوتا تو ابوبکر کو اپنا خلیل بناتا۔لوگو!آگاہ رہو کہ تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اورولیوں کی قبروں پر مسجدیں بنالیتے تھے لہذا تم ایسا نہ کرنا،قبروں پر مسجدیں نہ بنانا ،میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔’’
رسول اللہ ﷺ نےجو قبروں پر مسجدیں بنانے سے منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں پر لعنت فرمائی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے مسجدوں پر قبریں بنانے اور ان میں نماز پڑھنے سے غلو فی الدین بھی ہے اور یہ شرک کا زریعہ بھی ہے۔اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا نے فرمایا کہ
''آپﷺ ان کے فعل(کام) سے اپنی امت کو ڈرا رہے تھے اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر کو بھی کھول دیا جاتا۔ کھولا اس لئے نہ گیا کہ اسے بھی مسجد نہ بنا لیا جائے۔''
دیکھیے : فتاوی بن باز رحمہ اللہ/جلددوم
بحوث العلمیۃ والافتاء کی فتویٰ کمیٹی
●═┅┄ قبر والی مسجد کی اقسام ┄┅·•═●┄┅════════════════════════ ┅┄
قبر والی مسجد کی دو قسمیں ہیں، جن میں قبر ہو۔
( ➊ ) قبر مسجد سے پہلے ہو یعنی مسجد کو قبر پر بنایا گیا ہو، اس صورت میں اس مسجد کو چھوڑ دینا اور اس میں نماز نہ پڑھنا واجب ہے۔ مسجد بنانے والے کو چاہیے کہ اسے منہدم کر دے اور اگر وہ از خود ایسا نہ کرے تو مسلمان حکمران کو چاہیے کہ اسے گرا دے۔
( ➋ ) مسجد قبر سے پہلے بننے کے بعد اس میں میت کو دفن کیا گیا ہو تو اس صورت میں واجب ہے کہ قبر کو اکھاڑ دیا جائے اور میت کو اس سے نکال کر مسلمانوں کے ساتھ قبرستان میں دفن کر دیا جائے۔ ایسی مسجد میں نماز جائز ہوگی بشرطیکہ قبر نمازی کے سامنے نہ ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا تعلق ہے، جو مسجد نبوی میں شامل ہے، تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آپ کی وفات سے پہلے تعمیر کی گئی تھی یعنی مسجد نبوی قبر پر نہیں بنائی گئی اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں دفن نہیں کیا گیا تھا بلکہ آپ کو تو اپنے گھر میں دفن کیا گیا تھا جو مسجد سے الگ تھا۔ ولید بن عبدالملک نے اپنے عہد میں امیر مدینہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو سن ۸۸ھ میں خط لکھا کہ مسجد نبوی کو منہدم کر کے ازواج مطہرات کے حجروں کو اس میں شامل کر دو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے سرکردہ لوگوں اور فقہاء کو جمع کیا اور انہیں امیرالمومنین ولید کا خط پڑھ کر سنایا تو یہ ان پر بہت گراں گزرا اور انہوں نے کہا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑنا زیادہ موجب نصیحت ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کو مسجد میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی گویا آپ اس بات سے ڈرے کہ قبر کو سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس موقف کے بموجب ولید کو لکھ کر آگاہ کیا مگر ولید نے جواب میں اپنے حکم کے مطابق عمل پر زور دیا، لہٰذا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو مسجد میں نہیں بنایا گیا تھا اور نہ مسجد نبوی کو قبر پر بنایا گیا تھا تو مسجدوں میں دفن کرنے والوں یا قبروں پر مسجدیں بنانے والوں کے لیے یہ بات دلیل نہیں بن سکتی۔ اور حدیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
«لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» صحيح البخاری، الصلاة باب: ۵۵، ح:۴۳۵ وصحيح مسلم، المساجد، باب النهی عن بناء المسجد علی القبور، ح:۵۳۱۔
’’یہود ونصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجدبنا ڈالا۔‘‘
آپؐ نے یہ بات دنیا سے رخصت ہوتے وقت ارشاد فرمائی تھی، گویا آپؐ نے اپنی امت کو اس طرح کے کاموں سے منع فرمایاہے۔ اور جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کنیسہ اور اس میں بنی ہوئی تصویروں کا ذکر کیا جسے انہوں نے ارض حبشہ میں دیکھا تھا، تو آپ نے فرمایا:
«أُولٰٓئِکِ إِذَا مَاتَ فيْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ او العبد الصالح بَنَوْا عَلَی قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْکَ الصُّورَةَ أُولٰٓئِکِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ» صحيح البخاری، الجنائز، باب بناء المسجد علی القبر، ح: ۱۳۴۱ وصحيح مسلم، المساجد، باب النهی عن بناء المسجد علی القبور، ح: ۵۲۸۔
’’یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کوئی نیک شخص یا عبدصالح فوت ہو جاتا تو یہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے تھے اور پھر اس میں یہ تصویریں آویزاں کردیتے تھے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔‘‘
«اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِکُهمُ السَّاعَةُ وَهُمْ اَحْيَاءٌ، وَالذينْ يَتَّخِذونُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ» مسند احمد: ۱/ ۴۰۵، ۴۳۵۔
’’سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جنہیں قیامت کا زمانہ آلے گااور وہ زندہ ہوں گے اور وہ اس حال میں ہوں گے کہ وہ قبروں کو مسجدیں بناتے ہوں گے۔‘‘
مومن اس بات کو پسند نہیں کرسکتا کہ وہ یہودونصاریٰ کے طریقے پرچلے یااسکابدترین مخلوق میں شمار ہو۔
دیکھیے : فتاویٰ ارکان اسلام/عقائد کے مسائل /صفحہ :٢٦٠
●═┅┄ قبروں والی مساجد میں نماز کی شرعئی حیثیت┄┅·•═●┄┅════════════════════════ ┅┄
ایسی مساجد میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد بنانے والوں کو معلون قرار دیا ہے اور قبروں پر مساجد بنانے سے قبروں پر اور قبروں کی طرف نمازپڑھنے سےر وک دیا ہے ۔ جندن بن عبداللہ بھی کہتے ہیں میں نے اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے ان سے سنا۔ انہوں نے کچھ باتیں ذکر کیں:
((وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ.))
'' کہ جو تم سے پہلے تھے ( یہود و نصاری ٰ ) وہ اپنے ابنیاء اور ینک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے خبر دار تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ''۔
( رواہ مسلم (۵۳۲) ابو داؤد )
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
االلہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔
(بخاری (۳۹۰٠) مسلم (۵۲۹٩)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ قبروں پر مسجدیں بنانا حرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روک دیا ہے ۔ جب قربوں پر مسجدیں بنانے سے روک دیا گیا ہے تو ایسی مساجد میں نماز پڑھنی بالا ولی درست نہیں ہے کیونکہ یہ شریعت کا رول ہے کہ وسیلہ
( ذریعہ کی حرمت اس چیز کے حرام ہونے کو ملتزم ہوتی ہے جو اس وسیلہ سے مقصود ہو مثلاً شریعت نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے اور اس حرمت کے اندرا س کے پینے کی حرمت بھی موجود ہے ۔ یہاں شراب کی خرید و فروخت وسیلہ ہے اور اس کامقصود شراب نوشی رکان ہے۔ اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ قبروں پر مساجد بنانا حرام ہونا یہ صرف مساجد کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ نماز کی وجہ سے ہے۔ جس طرح گھروں اور محلوں میں مساجد بنانے کا حکم صرف مساجد کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ نماز کیلئے ہے۔ مساجد بنانے کا حکم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ہم مسجدیں بناتے جائیں اور ان میں کوئی بھی نماز پڑھنے کیلئے نہ آئے ۔ جس طرح شریعت نے مساجد بنانے کا حکم دیا ہے تو ضمناً ان میں نماز پڑھنے کا حکم بھی دیا ہے ( کیونکہ مسجد بنانے کا مقصد نماز ادا کرنا ہی تو ہوتا ہے ) اسی طرح جب شریعت نے قبروں پر مسجدیں بنانے سے روکا ہے تو ضمناً ایسی مسجدوں میں نماز پڑھنے سے بھی روکاہے اور یہ بات کسی بھی عقلمند آدمی سے مخفی نہیں ۔ اس لئے امام احمد بن جنبل رحمۃ اللہ نے ایسی مساجد میں ادا کی گئی نماز کو باطل قرار دیا ہے لیکن مسجد نبوی اس حکم سے متشنی ٰہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام لے کر اس کی فضیلت بیان کی ہے جو دوسری قبروں پر بنی ہوئی مسجدوں میں نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز دوسری مساجد کی نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں روضۃ من ریاض الجنۃ بھی ہے ۔ جس طرح بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا اس کی فضیلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم تھی بعد میں مشرکین نے بت رکھ دئیے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھتے تھے اگر مسجد نبوی میں نماز کو فاسد قرار دے دیں تو مسجد نبوی کی فضیلت کو ختم کر کے دوسری مساجد کے برابر قرار دینے کے مترادف ہو گا جو کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں پھر یہ بھی یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسجد اپنے اور مسلمانوں کیلئے بنائی تھی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی جبکہ قبریں ولید بن عبدالمالک کے دور میں داخل کی گئی ہیں اس وقت مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔ پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پیچھے نماز پڑھنے سے بچنا چاہئے ۔
دیکھیے : آپ کے مسائل اور ان کا حل/ جلد 1
فتویٰ کمیٹی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ
" ایسی مساجد میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد بنانے والوں کو ملعون قرار دیا ہے اور قبروں پر مساجد بنانے سے قبروں پر اور قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے روک دیا ہے ۔ جندب بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے ان سے سنا۔ انہوں نے کچھ باتیں ذکر کیں: '' کہ جو تم سے پہلے تھے ( یہود و نصاری ٰ ) وہ اپنے ابنیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے خبر دار تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ''۔ ( رواہ مسلم (۵۳۲) ابو داؤد ) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا االلہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔
(بخاری (۳۹۰٠) مسلم (۵۲۹٩)
●═┅نبی کریم ﷺ اوردو صحابہ کی قبروں کے بارے میں شبہات کاازالہ┅·•═●┄┅════════════════════════ ══┅┄
تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نبی كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور آپ ﷺ كے دونوں صحابيوں رضی اللہ عہنم كی تدفین مسجدِ نبوی ميں نہیں ہوئی تھی، بلكہ انہيں توسیدہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے گھر ميں دفن كيا گيا تھا ۔ اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ گھر (حجرہ) ، اُس وقت مسجدِ نبوی میں شامل نہیں تھا ۔جب وليد بن عبد الملك كے دور ميں مسجد نبوى كى توسيع كى گئى تو پہلى صدى كے آخر ميں سیدہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا حجرہ مبارك بھى مسجد ميں شامل كر ديا گيا، اور ولید كا يہ عمل مسجد ميں دفن كے حكم ميں نہيں آتا ہے ، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے دونوں صحابيوں (رضی اللہ عنہم) كو مسجد كى زمين ميں منتقل نہيں كيا گيا، بلكہ جس حجرہ ميں ان كى قبريں تھيں اسے توسيع كى غرض سے مسجد ميں داخل كيا گيا ہے ۔چنانچہ يہ عمل كسى كے ليے بھى قبروں پر مسجد بنانے يا پھر قبروں پر عمارت یا گنبد تعمير كرنے، يا مسجد ميں دفن كرنے كى دليل نہيں بن سكتى ۔ دلیل تو صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرامینِ مبارکہ ہیں،جن میں آپ نے منع فرمایا ہے۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) سیدنا جندب سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول نے اپنی وفات سے پانچ روز قبل یہ ارشاد فرمایا: "لوگو! کان کھول کر سن لو کہ تم سے پہلی اُمتوں نے اپنے نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجدیں بنالیا تھا۔ خبردار! تم قبروں پر مسجدیں مت بنانا، میں تمہیں اس بات سے منع کرتا ہوں" (مسلم:۵۳۲)
(2) حضرت اُمّ حبیبہ اور ام سلمہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یقینا ان (عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں تصاویر آویزاں کرتے، یہی لوگ روزِ قیامت اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق شمار ہوں گے۔" (بخاری :۴۳۳،مسلم:۵۲۸)
(3) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے ا للہ کے رسول کا یہ ارشاد گرامی سنا کہ "بلا شبہ بدتر ین لوگ وہ ہیں جن کی زندگی میں قیامت قائم ہوگی اور وہ ایسے لوگ ہوں گے جو قبروں کو مسجدیں بنائیں گے" (احمد:۱/۴۰۵، ابن حبان:۲۳۱۶، ابویعلی :۵۳۱۶، ابن خزیمہ:۷۸۹)(4) حدیث ِنبوی ہے کہ«لاتجلسوا علی القبور ولاتصلوا إليها» "قبروں پرنہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف نماز پڑھو" (مسلم:۳/۶۲،ابوداؤد:۱/ ۷۱،نسائی:۱/۱۲۴، ترمذی:۱/۱۵۴) ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب فتوی دیکھیے : فتویٰ کمیٹی
●═┅┄ قبرستان کو مسمار کر کے رہائش اختیار کرنا ┄┅·•═●
●═┅قبرستان فروخت کرنا،جہاں خریدنےوالارہائش اختیار کرے┅·•═●┄┅════════════════════════ ┅┄
مسلما نوں کی قبریں اکھا ڑ کر رہائش اختیا ر کرنا درست نہیں ہے البتہ قبر یں اگر بے نشان ہو چکی ہوں تو تعمیر میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہوتا اور جہاں تک کفارکی قبروں کا تعلق ہے سووہاں ہر دوصورت میں بلا تر دو رہائشی مکا ن تعمیر کیا جا سکتا ہے ملا حظہ ہو۔
«صحيح البخاري باب هل ينبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد»
اور مذکور مقام چونکہ مو جو دہ صورت میں قبر ستان نہیں رہا اس لیے اس میں عبادت کرنا درست فعل ہے حدیث میں ہے ۔
«الارض كلها مسجد الا المقبرة والحمام» (رواه الخمسة الا النسائي)
یعنی "تمام زمین مسجد ہے مگر قبرستان اور حمام ۔"
مسلمانوں کے قبرستان کو فروخت کر دینا ناجائز ہے ، یہ قبروں کی بے حرمتی ہے ۔
لاعلمی میں اگر کسی شخص نے قبرستان کی زمین خرید کر اس قبرستان میں رہائش اختیار کی تو وہ بری الذمہ ہے ۔ اصلاً مجرم تو پہلا انسان ہے جس نے مسلمانوں کی قبروں کی بے حرمتی کی ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرا می ہے ۔
«لاتصلوا الي القبور ولا تجلسوا عليها»
(رواه الجماعة الاالبخاري وابن ماجه)
یعنی""نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو اور نہ ان کے اوپر بیٹھو ۔"
دیکھیے :فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ/ جلد1 / صفحہ : 818
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
السَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
┄┅════════════⚜⚜⚜════════════┅┄
●═┅┄ قبروں پر مساجد بنانا┄┅·•═●
┄┅════════════════════════
قبروں پر مسجدیں بنانا جائز نہیں اور نہ کسی ایسی مسجد میں نماز جائز ہے جو کسی قبریا قبروں پر بنائی گئی ہو کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا سے روایت ہے۔کہ مرض الموت میں رسول اللہﷺ نے اپنے چہرے مبارک سے چادر ہٹا کر فرمایا:
لعنة الله علي اليهود والنصاريٰ اتخذوا قبور انبيائهم مساجد يحذر ما صنعوا ولو لا ذلك لا برز قبره غير انه خشي ان يتخذ مسجدا
(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما یکرہ من اتخاذ المساجد علی القبور ح: 1330 صحیح مسلم کتاب المساجد باب النھی عن بناء المسجد ۔۔۔ح :529 وسنن نسائی رقم:704 واحمد فی المسند 5/604 وموطا امام مالک کتاب نصر الصلاۃ فی السفر رقم :85)
''یہود ونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو۔کہ انہوں نے اپنے نبیوں ؑ کی قبروں کو مسجدیں بنالیا۔آپﷺ ان کے فعل سے اپنی اُمت کو ڈرا رہے تھے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ ﷺ کی قبر کو بھی نمایاں کردیا جاتا۔نمایاں اس لئے نہیں کیا گیا کہ اسے مسجد نہ بنا لیا جائے۔''
حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو وفات سے پانچ دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ
اني ابرا الي الله ان يكون لي منكم خليل فان الله قد اتخذني خليلا كما اتخذ ابراهيم خليلا ولو كنت متخذا من امتي خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا ال وان من كان قبلكم كانوا يتخزون قبور انبيائهم وصالحيهم مساجد الا فلا تتخذوا القبور مساجد فاني انهاكم عن ذلك
(صحیح مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ باب النھی عن بناء المسجد علی القبور ۔۔ح :532)
‘‘میں اللہ تعالیٰ کی جناب (بارگاہ)میں اس بات سے اظہار برات کرتا ہوں کہ تم میں سے میرا کوئی خلیل ہوکیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل بنالیا ہےجس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس نے اپنا خلیل بنا لیا تھا ۔اگرمیں نے امت میں سے کسی کو اپنا خلیل (بےحد گہرا دوست)بنانا ہوتا تو ابوبکر کو اپنا خلیل بناتا۔لوگو!آگاہ رہو کہ تم سے پہلے لوگ اپنے نبیوں اورولیوں کی قبروں پر مسجدیں بنالیتے تھے لہذا تم ایسا نہ کرنا،قبروں پر مسجدیں نہ بنانا ،میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں۔’’
رسول اللہ ﷺ نےجو قبروں پر مسجدیں بنانے سے منع فرمایا اور ایسا کرنے والوں پر لعنت فرمائی تو معلوم ہوا کہ یہ ایک کبیرہ گناہ ہے مسجدوں پر قبریں بنانے اور ان میں نماز پڑھنے سے غلو فی الدین بھی ہے اور یہ شرک کا زریعہ بھی ہے۔اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ ٰ عنہا نے فرمایا کہ
''آپﷺ ان کے فعل(کام) سے اپنی امت کو ڈرا رہے تھے اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر کو بھی کھول دیا جاتا۔ کھولا اس لئے نہ گیا کہ اسے بھی مسجد نہ بنا لیا جائے۔''
دیکھیے : فتاوی بن باز رحمہ اللہ/جلددوم
بحوث العلمیۃ والافتاء کی فتویٰ کمیٹی
●═┅┄ قبر والی مسجد کی اقسام ┄┅·•═●┄┅════════════════════════
قبر والی مسجد کی دو قسمیں ہیں، جن میں قبر ہو۔
( ➊ ) قبر مسجد سے پہلے ہو یعنی مسجد کو قبر پر بنایا گیا ہو، اس صورت میں اس مسجد کو چھوڑ دینا اور اس میں نماز نہ پڑھنا واجب ہے۔ مسجد بنانے والے کو چاہیے کہ اسے منہدم کر دے اور اگر وہ از خود ایسا نہ کرے تو مسلمان حکمران کو چاہیے کہ اسے گرا دے۔
( ➋ ) مسجد قبر سے پہلے بننے کے بعد اس میں میت کو دفن کیا گیا ہو تو اس صورت میں واجب ہے کہ قبر کو اکھاڑ دیا جائے اور میت کو اس سے نکال کر مسلمانوں کے ساتھ قبرستان میں دفن کر دیا جائے۔ ایسی مسجد میں نماز جائز ہوگی بشرطیکہ قبر نمازی کے سامنے نہ ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کا تعلق ہے، جو مسجد نبوی میں شامل ہے، تو یہ سبھی جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آپ کی وفات سے پہلے تعمیر کی گئی تھی یعنی مسجد نبوی قبر پر نہیں بنائی گئی اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں دفن نہیں کیا گیا تھا بلکہ آپ کو تو اپنے گھر میں دفن کیا گیا تھا جو مسجد سے الگ تھا۔ ولید بن عبدالملک نے اپنے عہد میں امیر مدینہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو سن ۸۸ھ میں خط لکھا کہ مسجد نبوی کو منہدم کر کے ازواج مطہرات کے حجروں کو اس میں شامل کر دو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے سرکردہ لوگوں اور فقہاء کو جمع کیا اور انہیں امیرالمومنین ولید کا خط پڑھ کر سنایا تو یہ ان پر بہت گراں گزرا اور انہوں نے کہا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑنا زیادہ موجب نصیحت ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کو مسجد میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی گویا آپ اس بات سے ڈرے کہ قبر کو سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس موقف کے بموجب ولید کو لکھ کر آگاہ کیا مگر ولید نے جواب میں اپنے حکم کے مطابق عمل پر زور دیا، لہٰذا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو مسجد میں نہیں بنایا گیا تھا اور نہ مسجد نبوی کو قبر پر بنایا گیا تھا تو مسجدوں میں دفن کرنے والوں یا قبروں پر مسجدیں بنانے والوں کے لیے یہ بات دلیل نہیں بن سکتی۔ اور حدیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
«لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْيَهُودِ وَالنَّصَارٰی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» صحيح البخاری، الصلاة باب: ۵۵، ح:۴۳۵ وصحيح مسلم، المساجد، باب النهی عن بناء المسجد علی القبور، ح:۵۳۱۔
’’یہود ونصاریٰ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجدبنا ڈالا۔‘‘
آپؐ نے یہ بات دنیا سے رخصت ہوتے وقت ارشاد فرمائی تھی، گویا آپؐ نے اپنی امت کو اس طرح کے کاموں سے منع فرمایاہے۔ اور جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کنیسہ اور اس میں بنی ہوئی تصویروں کا ذکر کیا جسے انہوں نے ارض حبشہ میں دیکھا تھا، تو آپ نے فرمایا:
«أُولٰٓئِکِ إِذَا مَاتَ فيْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ او العبد الصالح بَنَوْا عَلَی قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْکَ الصُّورَةَ أُولٰٓئِکِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ» صحيح البخاری، الجنائز، باب بناء المسجد علی القبر، ح: ۱۳۴۱ وصحيح مسلم، المساجد، باب النهی عن بناء المسجد علی القبور، ح: ۵۲۸۔
’’یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کوئی نیک شخص یا عبدصالح فوت ہو جاتا تو یہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے تھے اور پھر اس میں یہ تصویریں آویزاں کردیتے تھے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔‘‘
«اِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِکُهمُ السَّاعَةُ وَهُمْ اَحْيَاءٌ، وَالذينْ يَتَّخِذونُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ» مسند احمد: ۱/ ۴۰۵، ۴۳۵۔
’’سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جنہیں قیامت کا زمانہ آلے گااور وہ زندہ ہوں گے اور وہ اس حال میں ہوں گے کہ وہ قبروں کو مسجدیں بناتے ہوں گے۔‘‘
مومن اس بات کو پسند نہیں کرسکتا کہ وہ یہودونصاریٰ کے طریقے پرچلے یااسکابدترین مخلوق میں شمار ہو۔
دیکھیے : فتاویٰ ارکان اسلام/عقائد کے مسائل /صفحہ :٢٦٠
●═┅┄ قبروں والی مساجد میں نماز کی شرعئی حیثیت┄┅·•═●┄┅════════════════════════
ایسی مساجد میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد بنانے والوں کو معلون قرار دیا ہے اور قبروں پر مساجد بنانے سے قبروں پر اور قبروں کی طرف نمازپڑھنے سےر وک دیا ہے ۔ جندن بن عبداللہ بھی کہتے ہیں میں نے اللہ کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے ان سے سنا۔ انہوں نے کچھ باتیں ذکر کیں:
((وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ.))
'' کہ جو تم سے پہلے تھے ( یہود و نصاری ٰ ) وہ اپنے ابنیاء اور ینک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے خبر دار تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ''۔
( رواہ مسلم (۵۳۲) ابو داؤد )
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
االلہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔
(بخاری (۳۹۰٠) مسلم (۵۲۹٩)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ قبروں پر مسجدیں بنانا حرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روک دیا ہے ۔ جب قربوں پر مسجدیں بنانے سے روک دیا گیا ہے تو ایسی مساجد میں نماز پڑھنی بالا ولی درست نہیں ہے کیونکہ یہ شریعت کا رول ہے کہ وسیلہ
( ذریعہ کی حرمت اس چیز کے حرام ہونے کو ملتزم ہوتی ہے جو اس وسیلہ سے مقصود ہو مثلاً شریعت نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے اور اس حرمت کے اندرا س کے پینے کی حرمت بھی موجود ہے ۔ یہاں شراب کی خرید و فروخت وسیلہ ہے اور اس کامقصود شراب نوشی رکان ہے۔ اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ قبروں پر مساجد بنانا حرام ہونا یہ صرف مساجد کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ نماز کی وجہ سے ہے۔ جس طرح گھروں اور محلوں میں مساجد بنانے کا حکم صرف مساجد کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ نماز کیلئے ہے۔ مساجد بنانے کا حکم کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ہم مسجدیں بناتے جائیں اور ان میں کوئی بھی نماز پڑھنے کیلئے نہ آئے ۔ جس طرح شریعت نے مساجد بنانے کا حکم دیا ہے تو ضمناً ان میں نماز پڑھنے کا حکم بھی دیا ہے ( کیونکہ مسجد بنانے کا مقصد نماز ادا کرنا ہی تو ہوتا ہے ) اسی طرح جب شریعت نے قبروں پر مسجدیں بنانے سے روکا ہے تو ضمناً ایسی مسجدوں میں نماز پڑھنے سے بھی روکاہے اور یہ بات کسی بھی عقلمند آدمی سے مخفی نہیں ۔ اس لئے امام احمد بن جنبل رحمۃ اللہ نے ایسی مساجد میں ادا کی گئی نماز کو باطل قرار دیا ہے لیکن مسجد نبوی اس حکم سے متشنی ٰہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام لے کر اس کی فضیلت بیان کی ہے جو دوسری قبروں پر بنی ہوئی مسجدوں میں نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس مسجد میں نماز دوسری مساجد کی نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں روضۃ من ریاض الجنۃ بھی ہے ۔ جس طرح بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا اس کی فضیلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم تھی بعد میں مشرکین نے بت رکھ دئیے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھتے تھے اگر مسجد نبوی میں نماز کو فاسد قرار دے دیں تو مسجد نبوی کی فضیلت کو ختم کر کے دوسری مساجد کے برابر قرار دینے کے مترادف ہو گا جو کسی لحاظ سے بھی جائز نہیں پھر یہ بھی یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مسجد اپنے اور مسلمانوں کیلئے بنائی تھی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی جبکہ قبریں ولید بن عبدالمالک کے دور میں داخل کی گئی ہیں اس وقت مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔ پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پیچھے نماز پڑھنے سے بچنا چاہئے ۔
دیکھیے : آپ کے مسائل اور ان کا حل/ جلد 1
فتویٰ کمیٹی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ
" ایسی مساجد میں نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد بنانے والوں کو ملعون قرار دیا ہے اور قبروں پر مساجد بنانے سے قبروں پر اور قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے روک دیا ہے ۔ جندب بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے ان سے سنا۔ انہوں نے کچھ باتیں ذکر کیں: '' کہ جو تم سے پہلے تھے ( یہود و نصاری ٰ ) وہ اپنے ابنیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو مسجدیں بنا لیتے تھے خبر دار تم قبروں کو مسجد نہ بنانا میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ''۔ ( رواہ مسلم (۵۳۲) ابو داؤد ) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا االلہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ۔
(بخاری (۳۹۰٠) مسلم (۵۲۹٩)
●═┅نبی کریم ﷺ اوردو صحابہ کی قبروں کے بارے میں شبہات کاازالہ┅·•═●┄┅════════════════════════
تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نبی كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور آپ ﷺ كے دونوں صحابيوں رضی اللہ عہنم كی تدفین مسجدِ نبوی ميں نہیں ہوئی تھی، بلكہ انہيں توسیدہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے گھر ميں دفن كيا گيا تھا ۔ اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا وہ گھر (حجرہ) ، اُس وقت مسجدِ نبوی میں شامل نہیں تھا ۔جب وليد بن عبد الملك كے دور ميں مسجد نبوى كى توسيع كى گئى تو پہلى صدى كے آخر ميں سیدہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا حجرہ مبارك بھى مسجد ميں شامل كر ديا گيا، اور ولید كا يہ عمل مسجد ميں دفن كے حكم ميں نہيں آتا ہے ، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كے دونوں صحابيوں (رضی اللہ عنہم) كو مسجد كى زمين ميں منتقل نہيں كيا گيا، بلكہ جس حجرہ ميں ان كى قبريں تھيں اسے توسيع كى غرض سے مسجد ميں داخل كيا گيا ہے ۔چنانچہ يہ عمل كسى كے ليے بھى قبروں پر مسجد بنانے يا پھر قبروں پر عمارت یا گنبد تعمير كرنے، يا مسجد ميں دفن كرنے كى دليل نہيں بن سكتى ۔ دلیل تو صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرامینِ مبارکہ ہیں،جن میں آپ نے منع فرمایا ہے۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) سیدنا جندب سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول نے اپنی وفات سے پانچ روز قبل یہ ارشاد فرمایا: "لوگو! کان کھول کر سن لو کہ تم سے پہلی اُمتوں نے اپنے نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجدیں بنالیا تھا۔ خبردار! تم قبروں پر مسجدیں مت بنانا، میں تمہیں اس بات سے منع کرتا ہوں" (مسلم:۵۳۲)
(2) حضرت اُمّ حبیبہ اور ام سلمہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یقینا ان (عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں تصاویر آویزاں کرتے، یہی لوگ روزِ قیامت اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق شمار ہوں گے۔" (بخاری :۴۳۳،مسلم:۵۲۸)
(3) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے ا للہ کے رسول کا یہ ارشاد گرامی سنا کہ "بلا شبہ بدتر ین لوگ وہ ہیں جن کی زندگی میں قیامت قائم ہوگی اور وہ ایسے لوگ ہوں گے جو قبروں کو مسجدیں بنائیں گے" (احمد:۱/۴۰۵، ابن حبان:۲۳۱۶، ابویعلی :۵۳۱۶، ابن خزیمہ:۷۸۹)(4) حدیث ِنبوی ہے کہ«لاتجلسوا علی القبور ولاتصلوا إليها» "قبروں پرنہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف نماز پڑھو" (مسلم:۳/۶۲،ابوداؤد:۱/
●═┅┄ قبرستان کو مسمار کر کے رہائش اختیار کرنا ┄┅·•═●
●═┅قبرستان فروخت کرنا،جہاں خریدنےوالارہائش اختیار کرے┅·•═●┄┅════════════════════════
مسلما نوں کی قبریں اکھا ڑ کر رہائش اختیا ر کرنا درست نہیں ہے البتہ قبر یں اگر بے نشان ہو چکی ہوں تو تعمیر میں کو ئی حرج معلوم نہیں ہوتا اور جہاں تک کفارکی قبروں کا تعلق ہے سووہاں ہر دوصورت میں بلا تر دو رہائشی مکا ن تعمیر کیا جا سکتا ہے ملا حظہ ہو۔
«صحيح البخاري باب هل ينبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد»
اور مذکور مقام چونکہ مو جو دہ صورت میں قبر ستان نہیں رہا اس لیے اس میں عبادت کرنا درست فعل ہے حدیث میں ہے ۔
«الارض كلها مسجد الا المقبرة والحمام» (رواه الخمسة الا النسائي)
یعنی "تمام زمین مسجد ہے مگر قبرستان اور حمام ۔"
مسلمانوں کے قبرستان کو فروخت کر دینا ناجائز ہے ، یہ قبروں کی بے حرمتی ہے ۔
لاعلمی میں اگر کسی شخص نے قبرستان کی زمین خرید کر اس قبرستان میں رہائش اختیار کی تو وہ بری الذمہ ہے ۔ اصلاً مجرم تو پہلا انسان ہے جس نے مسلمانوں کی قبروں کی بے حرمتی کی ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرا می ہے ۔
«لاتصلوا الي القبور ولا تجلسوا عليها»
(رواه الجماعة الاالبخاري وابن ماجه)
یعنی""نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو اور نہ ان کے اوپر بیٹھو ۔"
دیکھیے :فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ/ جلد1 / صفحہ : 818
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
ماشاء اللہ
ReplyDeleteجزاک اللہ خیرا کثیرا
Delete